Q.1 منو بھائی ایک مشہور کالم نگار، مصنف اور شاعر ہیں۔ ان کا اصل کام کیا ہے؟
A. محمد جاوید قریشی
B. منیر احمد قریشی
C. عبدالرشید قریشی
D. چودھری محمد بخش
Correct Answer) B: منیر احمد قریشی
Description:
منو بھائی اصل نام منیر احمد قریشی (پیدائش: 6 فروری 1933ء– وفات: 19 جنوری 2018ء) پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
Q.2 ایران میں اجنبی کس شاعر کامجوعہ کلام ہے؟
A. ن م راشد
B. کیفی اعظمی
C. مصطفے زیدی
D. اختر شیرانی
Correct Answer) A: ن م راشد
Description:
ن۔م۔راشد کا دوسرا شعری مجموعہ ’ ایران میں اجنبی‘ (1955) میں شایع ہوا ۔راشد نے اپنے پہلے شعری مجموعے ’ماورا‘ (1942) کی اشاعت سے ہی ادبی دنیا میں اپنی شنا حت قائم کر لی ۔
بالخصوص ایران سے راشد کی وابستگی بہت گہری تھی۔ قیامِ ایران کے دوران راشد نے ایران کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور وہاں کی سیاسی،سماجی، تہذیبی اور معاشی صورتِ حال کو بہت قریب سے دیکھا۔
بہ قول راشد: ’’ایران نے راقم الحروف کے ذہن پر ایک مستقل اثر چھوڑا ہے اور اس ملک کے ساتھ ایک لازوال محبت اور شیفتگی پیدا کردی ہے لیکن ’ایران میں اجنبی‘ جذبات کی اس کشمکش کے تجزیے کی ایک کوشش ہے جو خاص سیاسی حالات نے پیدا کردیے تھے۔ یہ بکھرے ہوئے نقوش اس زمانے کی سیاست کے پردے پر بنائے گئے ہیں۔‘‘
(ایران میں اجنبی۔ ن۔ م۔ ر اشد، ص 143)
ڈاکٹر شاہ عالم، دہلی
Q.3 استاد منگو کا کردار منٹو کے کس فسانے میں ملتا ہے؟
A. کالی شلوار
B. نیا قانون
C. ٹوبہ ٹیک سنگھ
D. ٹھنڈا گوشت
Correct Answer) B: نیا قانون
Description:
سعادت حسن منٹو اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار اور خاکہ نویس گزرے ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ اپنی باریک بیں نگاہوں سے زندگی کی تلخ ، بے رحم سچائی اور حقیقت کو افسانے کا موضوع بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنی تصنیف ’’جدیدیت کے بعد‘‘ میں سعادت حسن منٹو کے افسانوی ادب کے ضمن میں اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’منٹو Doxa کا نقاب اسی لیے نوچ پھینکتا ہے کہ وہ اشرافیہ کو ننگا کر سکے۔‘‘ ’’نیا قانون‘‘ سعادت حسن منٹو کا پہلا شاہکار افسانہ ہے ۔منٹو کے یہاں ان کی سیاسی شعور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔’’ نیا قانون‘‘ بھی اسی نوعیت کا افسانہ ہے، جو ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے۔ ’’استادکوچوان منگو‘‘ اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔
https://www.express.pk/story/177693
Q.4 ابن انشا کا اصل نام کیا تھا؟
A. محمد عنایت حسین
B. محمد بشیر اختر
C. شیر محمد خان
D. محمد وحید خان
Correct Answer) C: شیر محمد خان
Description:
شاعر، مزاح نگار، اصلی نام شیر محمد خان تھا اور تخلص انشا. آپ 15 جون 1927ء کو جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے اور 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈولپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکے فکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔
Q.5 یاد گار غالب کس شاعر کی تخلیق ہے؟
A. حسرت موحانی
B. محمد حسین آزاد
C. آغا مومن
D. مولانا حالی
Correct Answer) D: مولانا حالی
Description:
یادگار غالب اردو کے سب سے معتبر اور معروف شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی سوانح عمری ہے۔ یاد گار غالب کے مصنف مولانا الطاف حسین حالی ہیں۔
Q.6 خجستہ گام کی ترکیب کا مفہوم کیا ہے؟
A. منحوس قدم
B. مبارک قدم
C. تیز قدم
D. سست قدم
Correct Answer) B: مبارک قدم
Description:
Q.7 اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔ شاعر کا نام بتائیں۔
Q.8 پہلا عوامی ڈرامہ اندر سبھا کس نے تحریر کیا؟
A. احمد نسیم قاسمی
B. شوکت صدیقی
C. نہال چندر لاہوری
D. امانت لکھنوی
Correct Answer) D: امانت لکھنوی
Description:
اندر سبھا کا شمار اردو کے اولین ناٹکوں میں ہوتا ہے۔ جسےامانت لکھنوی نے واجد علی شاہ کی فرمائش پر ۱۸۵۳عیسوی میں تحریر کیا۔ہندوستان میں ناٹک کا جنم ہوا،اور ناٹک کی روایت ہندوستان میں نہایت قدیم ہے۔اس زمانے میں راگ ناٹک ہندی میں تھا اور اردو کا بول بالاتھا اس لیے اس ناٹک کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ ناٹک اس زمانے کے رواج کے مطابق سیدھا سادہ اور منظوم ہے۔اس ناٹک کا پلاٹ یہ ہے کہ راجہ اندر کے دربار کی رقاصہ سبز پر ی کا دل ہندوستان کے شہزادے گلفام پر آجاتا ہے،وہ کالے دیوے سے کہہ کر اسے بلاتی ہے اور اظہارِ محبت کرتی ہے،شہزادہ اس شرط پر راضی ہوتا ہے کہ وہ اسے راجہ اندر کے دربار کی سیر کرائے،سیر کے دوران دونوں پکڑے جاتے ہیں۔ شہزادے کو قیدکیا جاتا ہے اور پری کو جلاوطن۔اب پری شہزادے کوحاصل کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتی ہےوہ اس ناٹک کا اہم حصہ ہے۔ یہ منظوم ڈراما 830 اشعار پر مشتمل ہے کل 8 کرداروں پر مشتمل ہے اس ڈرامے کا فعال کردار سبز پری ہے اور مرکزی کردار گلفام ہے۔ (ریختہ)
https://www.rekhta.org/ebook-detail/indr-sabha-amanat-lakhnavi-ebooks?lang=ur
Q.9 یار زندہ صحبت باقی، اس ضرب المثل سے کیا مراد ہے؟
A. یاروں کی صحبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے
B. محبت زندہ رہنے تک رہتی ہے
C. زندہ رہے تو ملتے رہیں گے
D. دوستی کی صحبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے
Correct Answer) C: زندہ رہے تو ملتے رہیں گے
Description:
Q.10 قواعد کی رو سے روٹی ووٹی میں ووٹی کیا ہے؟
A. مجاز مرسل
B. مہمل
C. کنایہ
D. ابدال
Correct Answer) B: مہمل
Description:
مہمل
ایسے تمام الفاظ جن کے اپنے کچھ معنی نہ ہوں لیکن جب یہ الفاظ کلمہ سے ملیں تو کچھ معنی بناتے ہوں مہمل کہلاتے ہیں۔
یا
ایسا لفظ جس کا اپنا کوئی معنی نہ ہو لیکن ایسا لفظ جوکسی بامعنی لفظ کے ساتھ بات میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے بولا جائے اُسے مہمل کہتے ہیں۔
مثالیں
پانی وانی، بات چیت، جھوٹ موٹ، سودا سلف، کوڑا کرکٹ وغیرہ
اِن میں وانی، چیت، موٹ، سلف، کرکٹ مہمل ہیں جو کوئی معنی نہیں رکھتے۔
فردوس بریں عبد الحلیم شرر کا ایک تاریخی ناول ہے جس میں اسلام کے خلاف فرقہ باطنیہ کی سازشوں کا احوال خوب شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے۔ عبد الحلیم شرر نے اس ناول میں فرقہ باطنیہ کی سرگرمیوں پر تاریخی حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔ا س ناول میں کردار نگاری اور منظر کشی بہت عمدہ ہے اور اس کی نظیر کم ہی اردو کے ناولوں میں ملتی ہے۔
Q.14 میاں خوجی کس ناول کا کردار ہے؟
A. فسانہ آزاد
B. مراۃالعروس
C. امراو جان ادا
D. آنگن
Correct Answer) A: فسانہ آزاد
Description:
فسانہ آزاد اردو ناول نگاری کے عہد اولین کا نقش ہے جسے پنڈت رتن ناتھ سرشار کشمیری نے لکھا۔ درحقیقت یہ ناول 1878ء میں لکھا گیا تھا اور شروع میں یہ لکھنؤ کے اودھ اخبار میں "ظرافت" کے عنوان سے قسط وار شائع ہوتا رہا پھر 1880ء میں پہلی دفعہ اسے منشی نول کشور لکھنؤ نے کتابی شکل میں چھاپا۔ یہ کتاب اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے اور ڈیڑھ سو سال گزرنے کے باوجود مقبول خاص و عام ہیں۔
رتن ناتھ سرشار نے اپنے ناول میں اکثر کرداروں کو مضحک خاکوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے دراصل لکھنوی معاشرے کی برائیوں کو نشانہ تضحیک بنایا ہے۔ ویسے تو ناول کے اکثر کرداروں کی گفتگو اور حرکات و سکنات سے مزاح پیدا کیا گیا ہے۔ اور فسانہ آزاد کے تقریباً سارے کرداروں سے کوئی نہ کوئی مزاحیہ بات کروائی گئی ہے۔ لیکن مزاح پیدا کرنے کے ليے بالخصوص خوجی کا کردار وضع کیا گیا ہے۔
Q.15 کس شخصیت نے پنجاب یونیورسٹی میں بحثیت مزدور کے کام کیا، اور بعد میں اس کے ممتحن مقرر ہوئے؟
A. حبیب جالب
B. احسان دانش
C. جوش ملیح آبادی
D. حفیظ جالندھری
Correct Answer) B: احسان دانش
Description:
احسان دانش (1914 کاندھلہ - 1982)، پیدائشی نام احسان الحق، اردو کے مقبول شاعر تھے۔ انہوں نے صرف پانچویں حماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، اس کے بعد وہ مزدوری کر کے اپنا گذر بسر کیا کرتے تھے۔ احسان دانش نے لاہور آکر شاعری کا آغاز کیا۔
ان کی شاعری قدرت کی اور اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے مزدوری کی۔ چونکہ وہ خو د مزدور تھے اس وجہ سے مزدور اورکمزور طبقہ کے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے تھے
ان کی زندگی کے ابتدائی ایام بے حد سخت اور کٹھن تھے، جب انھیں جسم و جان کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ کبھی انھوں نے مزدوری کی تو کبھی کسی چھاپے خانے میں بطور Ink man کام کیا۔ کبھی باورچی گیری کی تو کبھی چپڑاسی گیری، کبھی راج مزدور کی حیثیت سے کام کیا تو کبھی چوکیداری کی۔ وہ مالی بھی رہے اور قالین بننے والے بھی۔ ایک زمانے میں انھوں نے کتابوں کی ایک دکان پر بطور ہیلپر بھی خدمات انجام دیں اور زندگی کے آخری حصے میں کتب فروشی کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔ اس کج گلاہ نے سب کچھ کیا مگر ضمیر فروشی سے تادم آخر گریز کیا۔
ان کا اصل نام قاضی احسان الحق تھا، مگر علمی دنیا میں ان کی شہرت احسان دانش کے نام سے ہوئی۔
بے شک اﷲ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ آخرکار وہ دن بھی آیا جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اردو کے پیپرز کے ممتحن بنے اور جب وہ چیف ایگزامنر کی حیثیت سے اپنے معاوضے کا چیک لینے کے لیے یونیورسٹی پہنچے تو ان کے پرانے ساتھی مزدور انھیں پہچان گئے اور ان کی اس عظیم الشان کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سمائے۔
https://www.express.pk/story/475748
Q.16 غالب کا مشہور مصرعہ مکمل کیجئے: موت سے پہلے آدمی ---- نجات پائے کیوں۔
A. غم سے
B. دکھ سے
C. دل سے
D. سکون سے
Correct Answer) A: غم سے
Description:
Q.17 مشہور حمد وہی خدا ہے، کس شاعر کی ہے؟
A. یوسف میمن
B. ریاض مجید
C. مظفر وارثی
D. اعجاز رحمانی
Correct Answer) C: مظفر وارثی
Description:
سنہ انیس سو پچانوے میں پاکستان ٹیلی وژن پر اس وقت کے ابھرتے ہوئے شاعر مظفر وارثی نے اپنے پُرسوز ترنم میں ایک حمد پڑھی جو دیکھتے ہی دیکھتے قبولیت کا ریکارڈ بناتی گئی۔ اس حمد کے بول تھے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ۔ وہی خدا ہے
اس وقت کسے خبر تھی کہ یہ حمد اگلی صدی میں بھی اتنی ہی مقبولیت حاصل کرے گی۔ مظفر وارثی کو اردو کے عہد سازشعرا کی کسی بھی غیر جانبدارانہ فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
Q.18 منو بھائی ایک مشہور کالم نگار، مصنف اور شاعر ہیں۔ ان کا اصل کام کیا ہے؟
A. محمد جاوید قریشی
B. منیر احمد قریشی
C. عبدالرشید قریشی
D. چودھری محمد بخش
Correct Answer) B: منیر احمد قریشی
Description:
منو بھائی اصل نام منیر احمد قریشی (پیدائش: 6 فروری 1933ء– وفات: 19 جنوری 2018ء) پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
Q.19 انسان اور دیوتا ، اور محمد بن قاسم جیسے شاہکار ناولوں سے آغاز کرنے والے مصنف کا نام ہے؟
A. نسیم حجازی
B. ممتاز مفتی
C. فرحت اشتیاق
D. شہزاد کاشمیری
Correct Answer) A: نسیم حجازی
Description:
نسیم حجازی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام "نسیم حجازی" سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنھوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔ نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، معظم علی اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ، قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔
Q.20 ان میں سے کونسا لفظ ٹھیک ہے؟
A. نراضی
B. ناراضگی
C. نراضگی
D. ناراضی
Correct Answer) D: ناراضی
Description:
ناراضی کے اردو معانی، ناخوشی، خفگی، برہمی، نارضا مندی (ریختہ)
Q.21 مشہور کتاب آواز دوست کے مصنف کون ہیں؟
A. اشفاق احمد
B. مختار مسعود
C. احمد ندیم قاسمی
D. بانو قدسیہ
Correct Answer) B: مختار مسعود
Description:
آواز دوست پاکستانی بیوروکریٹ و ادیب مختا ر مسعود کی تصنیف کردہ کتاب ہے۔
چند علمی خیالات کو ایک منظم شکل دینا اور اختصار کے ساتھ بیان کرنا مضمون کہلایا۔ سرسید تحریک کے زیر اثر مضمون میں اصلاحی رنگ نمایاں رہا۔ سرسید کے سارے مضامین یورپ کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہو کر لکھے گئے۔ اور ایک واضح شکل اختیار کرنے سے قاصر رہے۔ سرسید کے بعد اس صنف نے مزید ترقی کی اور تاریخی، علمی، سائنسی، نفسیاتی اور سماجی تمام پہلوئوں کواپنے اندر سمو دیا۔ سرسید نے جن مضامین کی ابتداءکی اس کا نقطہ عروج جدید اردو ادب میں ”آواز دوست“ کی صورت میں سامنے آیا۔ ”آواز دوست“ اپنے اندر کئی ایسے پہلو رکھتی ہے جو اس سے پہلے مضامین کا موضوع نہیں رہے۔ مثلاً جس طرح ادب، فلسفے اور تاریخ کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کرکے پیش کیا گیا ہے اس پہلے ایسی مثال نہیں ملتی، ”آواز دوست“ کے مضامین ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہے۔ ”آواز دوست“ کی صحیح قدر متعین کرنے کے لیے ایک نقاد کو اس کے منصب کے تمام حوالوں کو بروئے کار لانا پڑے گا۔
Q.22 نقش برآب ہونا کا کیا مطلب ہے؟
A. خوشامد کرنا
B. جلدی زائل ہونا
C. شہرت پانا
D. ہمیشہ زندہ رہنا
Correct Answer) B: جلدی زائل ہونا
Description:
نقش برآب ہونا اسم کیفیت ہے،جس کا مطلب ہے، ، جلد مٹ جانے والا، بے ثبات، فانی، ناپائیدار، عارضی۔
Q.23 پہلا عوامی ڈرامہ اندر سبھا کس نے تحریر کیا؟
A. احمد نسیم قاسمی
B. شوکت صدیقی
C. نہال چندر لاہوری
D. امانت لکھنوی
Correct Answer) D: امانت لکھنوی
Description:
اندر سبھا کا شمار اردو کے اولین ناٹکوں میں ہوتا ہے۔ جسےامانت لکھنوی نے واجد علی شاہ کی فرمائش پر ۱۸۵۳عیسوی میں تحریر کیا۔ہندوستان میں ناٹک کا جنم ہوا،اور ناٹک کی روایت ہندوستان میں نہایت قدیم ہے۔اس زمانے میں راگ ناٹک ہندی میں تھا اور اردو کا بول بالاتھا اس لیے اس ناٹک کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ ناٹک اس زمانے کے رواج کے مطابق سیدھا سادہ اور منظوم ہے۔اس ناٹک کا پلاٹ یہ ہے کہ راجہ اندر کے دربار کی رقاصہ سبز پر ی کا دل ہندوستان کے شہزادے گلفام پر آجاتا ہے،وہ کالے دیوے سے کہہ کر اسے بلاتی ہے اور اظہارِ محبت کرتی ہے،شہزادہ اس شرط پر راضی ہوتا ہے کہ وہ اسے راجہ اندر کے دربار کی سیر کرائے،سیر کے دوران دونوں پکڑے جاتے ہیں۔ شہزادے کو قیدکیا جاتا ہے اور پری کو جلاوطن۔اب پری شہزادے کوحاصل کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتی ہےوہ اس ناٹک کا اہم حصہ ہے۔ یہ منظوم ڈراما 830 اشعار پر مشتمل ہے کل 8 کرداروں پر مشتمل ہے اس ڈرامے کا فعال کردار سبز پری ہے اور مرکزی کردار گلفام ہے۔ (ریختہ)
https://www.rekhta.org/ebook-detail/indr-sabha-amanat-lakhnavi-ebooks?lang=ur
Q.24 درج ذیل شعر کس کا ہے؟ ، نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے